Skip to main content

دعویدار

٨
عمر  بھر کی چاہت کے بھرم و انداز بدل جاتے ہیں
اک دوجے پر مرنے والے دعویداروں کے ناز بدل جاتے ہیں

زندگی کبی بھی اک دگر پر نہیں چلتی
ہر مورپر جینے کے انداز بدل جاتے ہیں

کبھی جیئں گے نہ تیرے بگیر یہ وعدہ رہا
اگلے پل یہی الفاظ بدل جاتے ہیں

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

😭