٨ عمر بھر کی چاہت کے بھرم و انداز بدل جاتے ہیں اک دوجے پر مرنے والے دعویداروں کے ناز بدل جاتے ہیں زندگی کبی بھی اک دگر پر نہیں چلتی ہر مورپر جینے کے انداز بدل جاتے ہیں کبھی جیئں گے نہ تیرے بگیر یہ وعدہ رہا اگلے پل یہی الفاظ بدل جاتے ہیں
٣ تیرے مہندی لگے ہاتھوں پے میرا نام لکھا ہے ذرا سے لفظ میں کتنا پیغام لکھا ہے یہ تیری شان کے شایان نہیں لیکن ،مجبوری تیری مستی بھری آنکھوں کو میں نے جام لکھا ہے